فطرانہ کیلکولیٹر (صدقۂ فطر)

Read this page in English

مختصر جواب

فطرانہ کتنا ہے؟ فطرانہ گھر کے ہر فرد کی طرف سے عید کی نماز سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ حنفی فقہ میں یہ آدھا صاع گندم (تقریباً پونے دو سے دو کلو) یا ایک صاع جو، کھجور یا کشمش (تقریباً چار کلو)، یا ان کی قیمت ہے۔ علما ہر رمضان میں اس کی رقم کا اعلان کرتے ہیں۔


فطرانہ کس پر واجب ہے؟

حنفی فقہ میں (جس کے مطابق اوپر کی رقمیں ہیں) فطرانہ ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو عید کے دن فجر کے وقت بنیادی ضرورتوں اور قرض کے علاوہ نصاب کے برابر مال کا مالک ہو۔ اس مال پر سال گزرنا یا اس کا قابلِ زکوٰۃ ہونا ضروری نہیں (الہدایہ، صدقۃ الفطر)۔ شافعی، مالکی اور حنبلی مسالک میں شرط اس سے کم ہے: جس کے پاس عید کے دن اور رات کے کھانے سے زیادہ ہو وہ ادا کرے۔ حنفی فقہ میں یہی شرط (ضرورت سے زائد مال نصاب کے برابر) قربانی کے واجب ہونے کی بھی ہے؛ قربانی کیلکولیٹر آج کے ریٹ پر بتاتا ہے کہ آپ پر قربانی واجب ہے یا نہیں۔

کس کس کی طرف سے؟

  • اپنی طرف سے، اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے۔
  • عید کی فجر سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کا فطرانہ بھی ہے۔
  • بیوی اور بالغ بچوں کی طرف سے بہت سے لوگ ان کی اجازت سے ادا کر دیتے ہیں، اور یہ ادا ہو جاتا ہے۔

ایک مثال

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے رمضان 1447 (فروری 2026) کے لیے گندم کے حساب سے کم از کم فی کس 300 روپے اور کھجور کے حساب سے 1,600 روپے بتائے۔ پانچ افراد کے گھر کا فطرانہ گندم کے حساب سے 5 × 300 = 1,500 روپے اور کھجور کے حساب سے 5 × 1,600 = 8,000 روپے بنتا ہے۔ رمضان 2027 کی رقمیں اعلان ہوتے ہی کیلکولیٹر میں آ جائیں گی؛ تب تک اپنے علاقے کی قیمت لکھیں۔

کب ادا کریں؟

عید کی نماز سے پہلے، تاکہ غریب بھی عید منا سکیں۔ رمضان کے دوران پہلے ادا کر دینا بھی جائز ہے اور اس سے ضرورت مندوں تک وقت پر پہنچانا آسان ہوتا ہے۔

کون سی چیز کے حساب سے دیں؟

چاروں میں سے کسی کی بھی قیمت دے سکتے ہیں۔ جن کی استطاعت ہو انہیں مہنگی چیزوں (کھجور یا کشمش) کے حساب سے دینے کی ترغیب دی جاتی ہے، کیونکہ اس سے غریب کو زیادہ ملتا ہے۔

فطرانہ کسے دیں؟

فطرانہ انہی مستحقین کو دیا جاتا ہے جنہیں زکوٰۃ دی جاتی ہے، یعنی غریب اور مسکین۔ اپنے والدین، دادا دادی، نانا نانی، اولاد اور پوتے نواسوں کو نہیں دیا جا سکتا، اور شوہر بیوی کو نہیں دے سکتا۔ تفصیل زکوٰۃ کون لے سکتا ہے میں ہے (انگریزی میں)۔

جو روزے بعد میں نہیں رکھ سکتے ان کا فدیہ، یا جان بوجھ کر توڑے گئے روزے کا کفارہ؟ فدیہ اور کفارہ کیلکولیٹر استعمال کریں۔ اپنے مال کی زکوٰۃ کے لیے اردو زکوٰۃ کیلکولیٹر دیکھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

فطرانہ کس پر واجب ہے؟

حنفی فقہ میں ہر اس مسلمان پر جو عید کی صبح بنیادی ضرورتوں اور قرض کے علاوہ نصاب کے برابر مال کا مالک ہو؛ اس مال پر سال گزرنا ضروری نہیں۔ وہ اپنی اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرتا ہے۔

کیا فطرانہ پیسوں میں دے سکتے ہیں؟

جی ہاں، حنفی مسلک میں قیمت ادا کرنا جائز اور عام ہے۔

کیا عید کے بعد فطرانہ دیا جا سکتا ہے؟

عید کی نماز سے پہلے دینا چاہیے۔ اگر رہ گیا ہو تو ذمہ سے ختم نہیں ہوتا؛ جتنی جلدی ہو ادا کر دیں۔

تحریر: · تازہ ترین: 18 October 2026 · ہم حساب کیسے کرتے ہیں · contact@myzakattool.com