قربانی کس پر واجب ہے؟ حنفی مسلک میں قربانی ہر اس عاقل بالغ مسلمان پر واجب ہے جو مسافر نہ ہو اور عید الاضحیٰ کے دنوں میں ضرورت سے زائد نقد، سونے، چاندی، تجارتی مال یا دوسری چیزوں میں ساڑھے باون تولہ (612.35 گرام) چاندی کی قیمت کا مالک ہو۔ آج یہ رقم تقریباً Rs 2,96,950 ہے۔ سال گزرنا شرط نہیں۔ شافعی، مالکی اور حنبلی مسالک میں قربانی استطاعت رکھنے والے کے لیے سنتِ مؤکدہ ہے۔ (ریٹ: )
عید کے دنوں میں جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ لکھیں، کیلکولیٹر آج کے چاندی کے ریٹ سے بتا دے گا کہ حنفی حکم کے مطابق آپ پر قربانی واجب ہے یا نہیں۔ دوسرا مسلک چنیں تو اس کا حکم نظر آئے گا۔ آپ کا لکھا کچھ بھی محفوظ یا کہیں نہیں بھیجا جاتا۔
قربانی کا نصاب
قربانی کا نصاب وہی ہے جو زکوٰۃ کا ہے: ساڑھے باون تولہ (612.35 گرام) چاندی یا ساڑھے سات تولہ (87.48 گرام) سونا۔ جس کے پاس مختلف چیزیں ہوں، پاکستان اور ہندوستان کے حنفی مفتی اس کے لیے چاندی کا نصاب لیتے ہیں، کیونکہ وہ کم ہے۔ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو اور کچھ بھی نقد نہ ہو تو ساڑھے سات تولہ سونے کا نصاب ہے۔ آج کا نصاب اپنی کرنسی میں آج کا نصاب صفحے پر دیکھیں۔
زکوٰۃ اور قربانی کے نصاب میں فرق
- سال گزرنا شرط نہیں: 10 ذوالحجہ کی فجر سے 12 ذوالحجہ کے غروب تک کسی بھی وقت نصاب کا مالک ہو جائے تو قربانی واجب ہے، چاہے مال عید سے ایک دن پہلے آیا ہو۔
- ضرورت سے زائد ہر چیز شمار ہوتی ہے: دوسرا مکان یا پلاٹ جس میں آپ نہیں رہتے، زائد گاڑی، استعمال سے باہر کپڑے، برتن یا سامان، چاہے ان پر زکوٰۃ نہ ہو (بدائع الصنائع)۔ رہائشی گھر، روزمرہ کپڑے، فرنیچر اور کام کے اوزار شمار نہیں ہوتے۔
- قرض منہا ہوتا ہے: جو قرض ابھی ادا کرنا ہے وہ مال سے کم کر دیا جاتا ہے۔
کیا گھر کے ہر فرد پر الگ قربانی ہے؟
قربانی ہر شخص پر الگ ہے، گھرانے پر ایک نہیں۔ جو بیوی اپنے زیور اور کچھ نقد کی وجہ سے صاحبِ نصاب ہو، یا جس جوان بیٹے کے پاس بچت ہو، وہ اپنی الگ قربانی کریں گے۔ والد ان کی اجازت سے ان کی طرف سے کر سکتا ہے۔ نابالغ بچے پر قربانی واجب نہیں۔ ایک بکرا، بھیڑ یا دنبہ ایک قربانی ہے؛ گائے، بھینس یا اونٹ میں سات لوگ شریک ہو سکتے ہیں (مسلم 1318، Muslim 1318)۔ جانور کی کم سے کم عمر: بکرا اور بھیڑ ایک سال، گائے بھینس دو سال، اونٹ پانچ سال۔
دوسرے مسالک کیا کہتے ہیں؟
- شافعی، مالکی اور حنبلی: قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، اس شخص کے لیے جس کے پاس عید کے دنوں کی ضرورت سے زیادہ ہو۔ کوئی نصاب نہیں۔
- اہلِ حدیث: اکثر علما کے نزدیک استطاعت والے کے لیے سنتِ مؤکدہ؛ بعض واجب کہتے ہیں، اس حدیث کی بنا پر کہ “جو استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے” (ابن ماجہ 3123)۔
- شیعہ (آیت اللہ سیستانی): استطاعت والے کے لیے مستحبِ مؤکد؛ صرف حج کرنے والے پر واجب۔
عید الاضحیٰ 2027 کب ہے؟
ام القریٰ کیلنڈر کے مطابق 10 ذوالحجہ 1448 اتوار 16 مئی 2027 کو ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں رؤیتِ ہلال کے مطابق عید ایک دن بعد بھی ہو سکتی ہے۔ حنفی مسلک میں قربانی عید کی نماز کے بعد سے 12 ذوالحجہ کے غروب تک ہو سکتی ہے، اور پہلا دن افضل ہے۔
یہی کیلکولیٹر انگریزی اور رومن اردو میں: Qurbani Calculator (انگریزی میں)۔ زکوٰۃ کے لیے اردو زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں۔ یہ صفحہ دارالعلوم دیوبند، جامعہ بنوریہ اور بنوری ٹاؤن کے شائع شدہ حنفی فتاویٰ پر مبنی ہے، فتویٰ نہیں۔ اپنی صورت کے لیے اپنے مسلک کے عالم سے پوچھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
قربانی کا نصاب کتنا ہے؟
ساڑھے باون تولہ (612.35 گرام) چاندی کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد مال۔ صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ۔
کیا قربانی کے لیے سال گزرنا شرط ہے؟
نہیں۔ عید کے تین دنوں میں کسی بھی وقت نصاب کا مالک ہونا کافی ہے۔
کیا عورت پر قربانی واجب ہے؟
جی ہاں، اگر وہ خود نصاب کی مالک ہو، مثلاً اپنے زیور اور کچھ نقد کی وجہ سے۔ شوہر کی قربانی اس کی طرف سے کافی نہیں۔
کیا مسافر پر قربانی واجب ہے؟
حنفی مسلک میں نہیں، البتہ کرے تو ثواب ملے گا۔