وراثت کیسے تقسیم ہوتی ہے؟ پہلے ترکے سے کفن دفن کا خرچ اور تمام قرض (ادا نہ کیا گیا مہر بھی) ادا کیا جاتا ہے، پھر غیر وارث کے لیے وصیت ایک تہائی تک۔ باقی مال وارثوں میں قرآن کریم کے مقرر کردہ حصوں (النساء 4:11، 4:12، 4:176) کے مطابق تقسیم ہوتا ہے: مثلاً اولاد ہو تو بیوی کا آٹھواں حصہ، والدین کا چھٹا چھٹا، اور بیٹے کا حصہ بیٹی سے دگنا۔ نیچے اپنا مسلک چنیں، کیلکولیٹر ہر وارث کا حصہ روپوں، زمین اور سونے میں نکال دے گا۔
یہ مفت وراثت کیلکولیٹر ترکہ اسی طرح تقسیم کرتا ہے جیسے مفتی صاحب یا پٹواری کرتے ہیں: آپ کے مسلک کی فقہ کے مطابق، زمین کنال مرلوں میں، سونا تولوں میں، اور ساتھ شجرہ جو آپ پرنٹ کر سکیں۔ اس میں حنفی (دیوبندی اور بریلوی)، شافعی، مالکی، حنبلی، اہلِ حدیث اور فقہ جعفری شامل ہیں، اور یہ پاکستان کے ساتھ دنیا بھر کے خاندانوں کے لیے ہے۔
میراث کیلکولیٹر: وراثت، ورثہ اور فرائض ایک ہی حساب
وراثت کو میراث بھی کہتے ہیں اور اس کے علم کو علمِ فرائض۔ یہ میراث کیلکولیٹر اسی علم کے اصولوں پر چلتا ہے: پاکستان میں ورثا کی تقسیم ہو یا کسی اور ملک میں، آپ کے مسلک کے مطابق ہر وارث کا حصہ نکالتا ہے اور ترکے کی ہر چیز (نقد، زمین، سونا) میں اس کا حصہ دکھاتا ہے۔ رومن اردو میں لکھنے والے اسے “virasat calculator” یا “warasat calculator” کے نام سے بھی ڈھونڈتے ہیں؛ یہ وہی کیلکولیٹر ہے۔
کیلکولیٹر کیسے استعمال کریں
سب سے آسان: اوپر “سوال سے حساب” کے خانے میں اپنا سوال اردو یا رومن اردو میں لکھیں یا پیسٹ کریں، مثلاً “ایک عورت فوت ہوئی، شوہر، ماں، دو حقیقی بہنیں”۔ صفحہ رشتے پہچان کر فارم بھر دیتا ہے؛ ایک نظر دیکھ کر حساب لگائیں۔ یا فارم خود مرحلہ وار بھریں:
- ترکہ لکھیں: نقد اور بینک (قرض اور کفن دفن کے خرچ کے ساتھ)، زمین یا مکان کنال، مرلے اور فٹ میں، سونا اور چاندی تولوں میں۔
- متوفی یا متوفیہ: مرد یا عورت چنیں اور نام لکھیں۔
- خاندان شامل کریں: والد، والدہ، بیوی یا شوہر، بیٹے بیٹیاں۔ یہ کم ہوں تو “دیگر رشتہ دار” کھولیں: دادا دادی، نانا نانی، سگے اور باپ شریک بہن بھائی، چچا تایا، پھوپھی، ماموں اور خالہ۔ ہر ایک کے بارے میں بتائیں کہ زندہ ہے، متوفی کی وفات سے پہلے فوت ہوا یا بعد میں۔ جو پہلے فوت ہوا وہ وارث نہیں بنتا (جہاں قانون اس کی اولاد کو حصہ دیتا ہے وہاں اولاد پوچھی جاتی ہے)، اور جو بعد میں فوت ہوا وہ وارث بن چکا تھا، اس کا حصہ اب اس کے اپنے وارثوں میں جائے گا۔
- مسلک چنیں: حنفی (دیوبندی اور بریلوی)، شافعی، مالکی، حنبلی، اہلِ حدیث یا فقہ جعفری، پھر تفصیلات کا جائزہ لے کر “وراثت کا حساب لگائیں” دبائیں۔
حساب لگانے کے بعد آپ کو کیا ملتا ہے
- ہر وارث کا حصہ: کسر، رقم روپوں میں، زمین کنال مرلہ فٹ میں (ایک کنال 20 مرلے، ایک مرلہ 272 مربع فٹ)، سونا اور چاندی تولہ اور گرام میں، آج کے سونے چاندی کے ریٹ سے اندازاً قیمت کے ساتھ، اور فیصد، ہر ایک کی وجہ آسان الفاظ میں۔
- جن کا حصہ نہیں بنتا: وجہ کے ساتھ، مثلاً “بیٹے کی موجودگی میں محروم” یا “پہلے فوت ہوئے، اس لیے وارث نہیں”۔
- شجرہ نسب وارثان متوفی: پٹواری جیسا شجرہ، آپ کے اندراج سے۔ بڑا خاندان اسکرین میں سما دیا جاتا ہے اور “شجرہ بڑا کریں” سے بڑا ہو جاتا ہے۔
- حساب کی کاپی: اصلِ مسئلہ، ہر وارث کے سہام، اور عول یا رد ہو تو اس کے مراحل، اسی طرح جیسے مفتی صاحب مسئلہ جانچتے ہیں۔
- چھ مسلک ساتھ ساتھ: ایک ہی خاندان کا حساب چھ مسالک کے مطابق ایک جدول میں، تاکہ فوراً پتا چلے کہ آپ کے مسئلے میں اختلاف ہے یا نہیں۔
- اگر یہ ہوتا تو؟ کسی ایک رشتہ دار کا حال بدل کر دیکھیں، مثلاً والد زندہ ہوتے یا بھائی نہ ہوتا، تو حصے کیسے بدلتے؛ اصل نتیجہ نہیں بدلتا۔
- فقہ اور پاکستانی قانون: اگر کوئی بیٹا یا بیٹی متوفی سے پہلے فوت ہو گئے اور ان کی اولاد ہے تو فقہ اور قانون کا نتیجہ مختلف ہو سکتا ہے۔ تب کیلکولیٹر دونوں دکھاتا ہے: “پاکستانی قانون (پٹواری)” اور آپ کے مسلک کی فقہ۔
- شیئر کریں اور مفتی صاحب سے پوچھیں: لنک کاپی کریں یا واٹس ایپ پر بھیجیں، جسے بھیجیں وہ یہی خاندان اور یہی حساب دیکھے گا۔ لنک میں آپ کا اندراج پتے ہی میں ہوتا ہے، ہمارے سرور پر کچھ محفوظ نہیں ہوتا۔ دارالافتاء کے لیے استفتاء کا مسودہ بھی ایک بٹن سے تیار ہو جاتا ہے۔
- پی ڈی ایف رپورٹ: پہلے صفحے پر صرف شجرہ (بڑے خاندان کے لیے صفحہ آڑا)، نیچے پٹواری کی رپورٹ کے لیے جگہ، پھر حصوں کا جدول، وجوہات اور حساب کی کاپی۔
ترتیب: قرض، وصیت، پھر وارث
تقسیم سے پہلے ترکے سے سادہ کفن دفن کا خرچ، پھر متوفی کا ہر قرض ادا کیا جاتا ہے۔ بیوی کا ادا نہ کیا گیا مہر بھی قرض ہے اور پورا ادا ہوتا ہے؛ چاندی یا سونے میں طے مہر کی آج کی قیمت حق مہر کیلکولیٹر سے دیکھیں۔ اس کے بعد وصیت پوری کی جاتی ہے، صرف غیر وارث کے لیے اور بچے ہوئے مال کے ایک تہائی تک۔ اس سے زیادہ کے لیے بالغ وارثوں کی رضامندی ضروری ہے۔ جو بچے وہی وراثت ہے۔
قرآن کریم کے مقرر کردہ حصے
- شوہر: آدھا، اور اگر بیوی کی اولاد ہو تو چوتھائی۔
- بیوی: چوتھائی، اور اگر شوہر کی اولاد ہو تو آٹھواں۔ دو، تین یا چار بیویاں یہی حصہ برابر بانٹتی ہیں۔
- والد: بیٹا ہو تو چھٹا؛ صرف بیٹیاں ہوں تو چھٹا اور جو بچے؛ اولاد نہ ہو تو جو بچے سب۔
- والدہ: اولاد یا دو یا زیادہ بہن بھائی ہوں تو چھٹا، ورنہ تہائی۔ اگر وارث صرف شوہر یا بیوی اور والدین ہوں تو والدہ کو شوہر یا بیوی کے بعد بچے ہوئے کا تہائی ملتا ہے (عمریتین)۔
- بیٹیاں: اکیلی بیٹی آدھا، دو یا زیادہ دو تہائی۔ بیٹا ہو تو اولاد باقی مال بانٹتی ہے، بیٹے کا بیٹی سے دگنا۔
- بہنیں (جب اولاد اور والد نہ ہوں): ایک آدھا، دو یا زیادہ دو تہائی؛ بیٹیوں کے ساتھ بہنیں باقی مال لیتی ہیں۔
- ماں شریک بہن بھائی: ایک ہو تو چھٹا، دو یا زیادہ ہوں تو تہائی برابر۔
اگر مقررہ حصے مل کر پورے ترکے سے زیادہ ہو جائیں تو سب ایک ہی نسبت سے کم ہوتے ہیں (عول)۔ اگر کم رہیں اور کوئی عصبہ نہ ہو تو باقی مال شوہر یا بیوی کے سوا انہی حصہ داروں کو لوٹتا ہے (رد)۔ کیلکولیٹر دونوں کام کرتا ہے، بتا دیتا ہے، اور حساب کی کاپی میں مراحل دکھاتا ہے۔
جب صرف دور کے رشتہ دار ہوں
اگر کوئی حصہ دار یا عصبہ نہ ہو (مثلاً صرف ماموں، خالہ یا پھوپھی ہوں) تو احناف، حنابلہ، اہلِ حدیث اور بعد کے شافعی و مالکی فقہا ترکہ عورتوں کے واسطے والے رشتہ داروں (ذوی الارحام) کو دیتے ہیں۔ فقہ جعفری میں چچا پھوپھی اور ماموں خالہ تیسرا طبقہ ہیں۔ ان کی تقسیم میں تفصیل اور اختلاف ہے، اس لیے کیلکولیٹر ایسے نتیجے پر مفتی صاحب سے تصدیق کا نوٹ دیتا ہے۔
مسالک کا اختلاف
- دادا اور بھائی: احناف (امام ابو حنیفہ اور حضرت ابو بکر کی رائے) اور اہلِ حدیث علما دادا کو والد کی طرح سمجھتے ہیں: وہ بہن بھائیوں کو محروم کر دیتا ہے۔ شافعی، مالکی اور حنبلی حضرت زید بن ثابت کی رائے پر ہیں: دادا بھائیوں کے ساتھ شریک ہوتا ہے، اور اسے برابر حصہ، تہائی یا چھٹا، جو زیادہ ہو، ملتا ہے (مسئلہ اکدریہ بھی اسی میں ہے)۔
- مسئلہ مشترکہ: شوہر، والدہ، دو یا زیادہ ماں شریک بہن بھائی اور سگے بھائی ہوں تو سگے بھائیوں کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ شافعی اور مالکی انہیں تہائی میں شریک کرتے ہیں؛ حنفی اور حنبلی نہیں۔
- دادی: حنبلی فقہ میں دادی اپنے بیٹے (متوفی کے والد) کی زندگی میں بھی وارث ہوتی ہے۔
- شوہر یا بیوی پر رد: جب کوئی اور وارث نہ ہو تو متاخرین احناف اور اہلِ حدیث علما باقی مال شوہر یا بیوی کو لوٹاتے ہیں؛ شافعی، مالکی اور حنبلی نہیں۔
- فقہ جعفری میں وارث تین طبقوں میں ہیں: پہلے والدین اور اولاد، پھر دادا نانا اور بہن بھائی، پھر چچا ماموں۔ عول نہیں ہوتا؛ پہلے فوت ہونے والے بیٹے بیٹی کی اولاد ان کی جگہ لیتی ہے جب متوفی کی کوئی اولاد زندہ نہ ہو؛ اور بیوی کو زمین سے نہیں، صرف عمارت اور درختوں کی قیمت سے حصہ ملتا ہے۔
نتیجے کے نیچے “چھ مسلک ساتھ ساتھ” کھول کر دیکھیں کہ آپ کے خاندان پر کون سا اختلاف لاگو ہوتا ہے۔
یتیم پوتے اور پاکستانی قانون
چاروں سنی مسالک میں جس پوتے کا والد پہلے فوت ہو گیا ہو، وہ متوفی کے کسی بیٹے کی موجودگی میں وارث نہیں بنتا۔ پاکستان کے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 کے مطابق پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد کو وہ حصہ ملتا ہے جو ان کے والد یا والدہ کو ملتا۔ وفاقی شرعی عدالت نے اس دفعہ کو اسلامی احکام کے خلاف قرار دیا، لیکن سپریم کورٹ میں اپیل زیرِ التوا ہے اور عدالتیں اسے لاگو کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں کیلکولیٹر خود دونوں نتیجے دکھاتا ہے: فقہ کے مطابق اور قانون (پٹواری) کے مطابق۔ دادا اپنی زندگی میں ایک تہائی تک کی وصیت سے یتیم پوتے پوتیوں کو حصہ دے سکتا ہے، کیونکہ وہ اس وقت وارث نہیں۔
زمین، سونا اور مکان
حصے پورے ترکے کی کسر ہیں، صرف نقد کی نہیں۔ اگر ترکے میں 2 کنال 10 مرلے زمین ہو تو بیوی کا آٹھواں حصہ 6.25 مرلے (6 مرلے 68 مربع فٹ) ہے، اور کیلکولیٹر ہر حصہ کنال، مرلہ اور فٹ میں بدل دیتا ہے۔ سونا اور چاندی تولہ اور گرام میں آج کی اندازاً قیمت کے ساتھ دکھائے جاتے ہیں۔ وارث باہمی رضامندی سے جائیداد بیچ کر رقم بانٹ سکتے ہیں، یا ایک وارث جائیداد رکھ کر دوسروں کو ان کے حصے کی قیمت دے سکتا ہے۔
حصہ ملنے کے بعد زکوٰۃ
وراثت میں ملا حصہ آپ کی ملکیت بن جائے تو زکوٰۃ میں آپ کے باقی مال کے ساتھ شمار ہوتا ہے۔ نقد اور سونا آپ کی بچت میں شامل ہوتے ہیں؛ زیور پر آپ کے مسلک کا زیور والا حکم لگتا ہے؛ رہنے یا کاشت کے لیے رکھی زمین پر زکوٰۃ نہیں، البتہ فصل پر عشر ہے۔ رقم زکوٰۃ کیلکولیٹر سے نکالیں، اور نصاب دیکھ لیں۔ عید سے پہلے گھر کے ہر فرد کا فطرانہ بھی یاد رکھیں۔
بیٹی کا حق
بیٹی کا حصہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مقرر کیا ہے۔ خاندانی رواج، دباؤ میں بھائیوں کے نام “ہبہ”، یا زمین صرف بیٹوں کو دینا اس حق کو ختم نہیں کرتا۔ پاکستان میں دھوکے سے عورت کو وراثت سے محروم کرنا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 498-الف کے تحت جرم ہے، اور خواتین کے جائیداد کے حقوق کے نفاذ کے قانون 2020 کے تحت عورت محتسب سے شکایت کر سکتی ہے۔
کیا یہ درست ہے؟
یہ کیلکولیٹر السراجیہ اور دوسرے مسالک کی معتبر کتابوں اور آیت اللہ سیستانی کے توضیح المسائل کے اصولوں پر ہے۔ انجن پوری کسروں سے حساب کرتا ہے، اس لیے حصے ہمیشہ پورے ترکے کے برابر ہوتے ہیں، اور ہر تبدیلی پر کتابوں کی 425 حل شدہ مثالوں (ہر مسلک کی 69 سے 77) پر جانچا جاتا ہے؛ 6 مزید مثالیں، جن میں علما کا اختلاف ہے، کھلے سوالات کے طور پر رکھی گئی ہیں۔ پھر بھی تقسیم سے پہلے نتیجہ کسی مفتی صاحب کو دکھا لیں (استفتاء کا بٹن اسی کے لیے ہے)، اور جائیداد کی منتقلی کے لیے وکیل سے مدد لیں۔ کوئی غلطی لگے تو ہمیں بتائیں۔ آپ کے لکھے نام اور رقمیں آپ کے براؤزر ہی میں رہتی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بیٹی کا وراثت میں کتنا حصہ ہے؟
بیٹا بھی ہو تو بیٹی کو بیٹے کا آدھا ملتا ہے۔ اکیلی بیٹی ہو تو آدھا ترکہ، دو یا زیادہ بیٹیاں ہوں تو مل کر دو تہائی۔
بیوی کا حصہ کتنا ہے؟
شوہر کی اولاد ہو تو آٹھواں، نہ ہو تو چوتھائی۔ ایک سے زیادہ بیویاں یہ حصہ برابر بانٹتی ہیں۔
جس پوتے کا والد پہلے فوت ہو گیا، کیا اسے دادا کی وراثت ملے گی؟
سنی فقہ میں متوفی کے کسی بیٹے کی موجودگی میں نہیں۔ پاکستانی قانون (عائلی قوانین 1961، دفعہ 4) کے تحت اسے اپنے والد کا حصہ ملتا ہے؛ کیلکولیٹر دونوں نتیجے الگ الگ دکھاتا ہے۔
جو وارث تقسیم سے پہلے فوت ہو گیا، اس کا حصہ کس کو ملے گا؟
اگر وہ متوفی کی وفات کے بعد فوت ہوا تو وہ وارث بن چکا تھا؛ اس کا حصہ اب اس کے اپنے وارثوں میں تقسیم ہوگا (مناسخہ)۔
کیا ماموں، خالہ یا پھوپھی کو وراثت ملتی ہے؟
صرف تب جب کوئی حصہ دار یا عصبہ (جیسے بیٹا، بھائی، چچا) نہ ہو۔ سنی فقہ میں یہ ذوی الارحام ہیں اور فقہ جعفری میں تیسرا طبقہ۔ کیلکولیٹر ایسے نتیجے پر تصدیق کا نوٹ دیتا ہے۔
کیا ایک ساتھ سب مسالک کا حساب دیکھ سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ نتیجے کے نیچے "چھ مسلک ساتھ ساتھ" کھولیں: ایک ہی خاندان کا حساب حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، اہلِ حدیث اور فقہ جعفری کے مطابق ایک جدول میں۔
میراث اور وراثت میں کیا فرق ہے؟
کوئی فرق نہیں۔ دونوں کا مطلب فوت ہونے والے کا ترکہ ہے جو وارثوں میں تقسیم ہوتا ہے، اور اس کے علم کو علمِ فرائض کہتے ہیں۔
مفتی صاحب کو مسئلہ کیسے بھیجیں؟
نتیجے کے نیچے "شیئر کریں اور مفتی صاحب سے پوچھیں" میں لنک اور واٹس ایپ کا بٹن ہے، اور استفتاء کا تیار مسودہ جسے کاپی کر کے دارالافتاء بھیج سکتے ہیں۔ حساب کی کاپی میں وہ مراحل ہیں جو مفتی صاحب جانچیں گے۔